|
سبب
اعجاز:
یہ بات
مسلم ھے کہ وحی قرآنی کے زمانہ میں انسان کو یہ علم
نھیں تھا کہ فضائی غلاف اور اس کے مختلف طبقات میں گیس
کے ترکیبی اجزاء کیا ھیں اسی طرح اس کی اوپر کے طبقات
میں پریشر کا کم ھونا اور جیسے جیسے انسان فضا میں اوپر
جاتا ھے اسکی زندگی کیلئے ضروری آکسیجن کی مقدار کا کم
ھونا اور اسکے نتیجہ میں سانس کے نظام اور انسانی
زندگي کی بقا پر اس کا اثر پڑنا اور سانس نظام کا فیل
ھو جانا اور پھر مر جانا ان سب چیزوں کا علم نھیں تھا
بلکہ اس کے پر عکس لوگ یہ سمجھتے تھے کہ جیسے جیسے
انسان بلندی پر جاتا ھے اس کا سینہ کھل جاتا ھے اور وہ
باد نسیم کےجھونکوں سے لطف اندوز ھونے لگتا ھے۔
آیت
کریمہ نے وضاحت کے ساتھ ایسی دو حقیقتوں کی جانب اشارہ
کیا ھے جدید سائنس نے جنکا ابھی حال ھی میں انکشاف کیا
ھے پہلی حقیقت فضائی طبقات میں انسان کے اوپر جانے کے
وقت سینے میں تنگی اور تنفس کی شکایت ھے اور یہ اب ظاھر
ھو گیا ھے کہ فضا میں ھوا کا پریشر نیچے آنے اور آکسیجن
کی کمی کی وحہ سے ایسا ھوتا ھے
دوسری
حقیقت یہ ھے کہ موت سے پہلے انسان گلا گھٹنے کی شکایت
اور تنگی محسوس کرتا ھے جب وہ فضا کے طبقات تیس ھزار
قدم کی بلندی پر پھونچ جاتا ھے،چونکہ فضائی پریشر بہت
کو ھو جاتا ھے اور زندگی کیلئے ضروری آکسیجن بھی یہاں
تک کہ پھیپھڑوں کی اندرونی آکسیجن بھی ختم ھو جاتی ھے
جس کی وجہ سے انسان مرجاتا ھے یا ہلاک ھو جاتا ھے۔ غور
کرنے کی بات یہ ھے کہ عربی زیان میں کلمہ (یصّعّد)
چڑھنے میں شدت اور سختی پر دلالت کرتا ھے جو اس حاثے
میں پیش آنے والی تکالیف اور پریشانیوں کی صحیح
ترجمانی ھے کیااس حقیقت سے آگاھی علیم وخبیر کی وحی کے
بغیر ممکن ھے؟ |