|
سبب
اعجاز:
پانی کا
ھر مجموعہ بحر کہلاتا ھے بہت میٹھے بحر کو نھر کہتے
ھیں۔ اورخوب ملاحت والے بحر کو سمندر یادریا کہتے ھیں۔
اسی طرح سے سنگم کا پانی ان دونوں سے خارج ھے کیونکہ
اس کے اندر ملاحت اورشیرینی دونوں چیزیں جمع ھیں ۔
لہذا اس کو نہ تو شیریں اور نہ توکھارا پانی کہا جا سکتاھے
ان اوصاف سے پانی کے مجموعہ کی تین قسمیں ھوگئیں، نہر
کا پانی، سمندر کا پانی، دونوں کے درمیان سنگم کا پانی،
جس کیلئے آیت کریمہ میں برزخ یا حاجز کا لفظ استعمال
کیا گیا ھے جو سمندر کی ملاحت کی صفت کو نھر پر یا نھر
کی شیرینی کی صفت کو سمندر پرغالب نھیں آنے دیتا اور
سنگم کا ما حول ممتاز ھوتا ھے چونکہ وہ ایک حجاب ھے جس
میں زندہ جاندار ھیں اور جن کا نکلنا نھر یا سمندر کےجانوروں
کے ساتھ ممنوع ھے اس کا مطلب یہ ھےکہ طبعی صفات اور
زندہ جانداروں کے اعتبار سے تینوں ماحول مختلف ھوتے
ھیں
سمندری
علم کے سفر کےتاریخی ترقی سے پتہ چلتا ھے کہ چار سو
سال پہلے سمندروں کے متعلق اتنی دقیق معلومات نھیں
تھیں اس کے باوجود قرآن کریم نے پوری باریک بینی کے
ساتھ سنگموں کا تذکرہ کیا ھے اور بتایا کہ اس کا ماحول
اس کی خاص طبعی خصوصیات کی وجہ سے نھر اور سمندر کے
ما حول سے مختلف ھے اور اس بات کا بھی انکشاف کیا کہ
باوجود پانی کے آپس میں ملنے اور سمندری جہت میں اس کے
متحرک رھنے کے باوجود وہ خصوصیات باقی رھتی ھیں ، قرآن
کریم میں بغیر جدید سائنس اور اس کے آلات کے ذریعہ یہ
علم کہاں سے آ گیا اگر یہ قرآن اس ذات باری کی طرف سے
نھیں ھے جس کا علم ھر چیز پر محیط ھے؟
|