|
سبب
اعجاز:
قدیم
زمانے میں سمندروں کے متعلق انسان عجیب طرح کے خرافات
کا عقیدہ رکھتا تھا اور سمندروں کی گھرائیوں کےحالات
کے بارے میں کوئی تحقیق اور علمی معلومات ملاحوں کے
سامنے نھیں تھی اسی طرح سمندری موجوں سے متعلق معلومات
بھی اس زمانے میں بہت محدود تھیں ٹھرے ھوۓ سمندروں
کےمتعلق جن کو کشتیاں پار نھیں کر سکتی تھیں اور اس کے
علاوہ بہت ساری باتیں بھی معروف تھیں قدیم روم کا
عقیدہ یہ تھا کہ ان کے اندر چپکنے والی مچھلیاں جو کشتیوں
کی حرکت کو روکنے میں جادوئی اثر رکھتی ھیں اور
باوجودیکہ قدماء کو اس بات کا علم تھا ھوائیں موجوں
اور ظاھری امواج پر اثر انداز ھوتی ھیں لیکن گھرے
سمندروں میں اندرونی امواج کو جاننا دشوار تھا اور
سمندری علوم کی تاریخ سے اس بات کا پتہ لگتا ھے کہ
سمندری علوم اور اس کی گھرائیوں سے متعلق تحقیقات
بیسویں صدی کے ابتدا میں اسی وقت شروع ھوئی جب ان
باریک تحقیقات کیلئے مناسب آلات کی ایجاد ھوئی اور
جدید سمندری علوم نے بیسویں صدی کے دوسرے نصف میں
سمندروں کی گھرائیوں کے متعلق حیرت ناک اسرار ورموز کا
انکشاف کیا جس میں سے دو معروف یہ ھیں گھرے سمندر کی
تاریکیاں اور اندرونی امواج کی حرکت اور قرآن کریم نے
ان دونوں کی نسبت اشارہ کر دیا ھے چناچہ بحر لجّی کہکر
کے قرآن کریم نے گھرے سمندروں میں پائی جانے والی تاریکیوں
کی جانب اشارہ کر دیا ھے اور سمندروں کی تاریکی تہہ در
تہہ ھے مفسرین کہتے ھیں کہ ان تاریکیوں سے مراد بادل
کی تاریکی موج کی تاریکی اور سمندر کی تاریکی ھے چناچہ
ان تاریکیوں میں ٹھرنے والا کچھ بھی نھیں دیکھ سکتا ان
سمندروں کو ڈھکنے والے گھنےبادل سورج کی روشنی کے ایک
بڑے جصے کو روک لیتے ھیں اور سمندر اپنی اوپر موجوں کے
ذریعہ روشنی کے باقی حصہ کو اپنے اندر لے لیتے ھیں پھر
پانی سورج کے ھیولے کے رنگوں کو یکے بعد دیگرے اپنے
اندر جذب کر لیتے ھیں یہاں تک کہ ھیولے کے تمام رنگ
چھپ جاتے ھیں پھر اندرونی موجوں کا جب نمبر آتا ھے جو
گھرائیوں کو بھیانک تاریکی میں بدل دیتی ھیں یہاں تک
کہ انسان اگر اپنا ہاتھ نکالے تو اس کو نھیں دیکھ سکتا
اور - ظلمات بعضہا فوق بعض – کی تعبیر سمندروں کی اس
حقیقت کو بڑی باریک بینی سے واضح کرتی ھے جیسا کہ ان
گھرائیوں مین پائی جانے والی مچھلیوں کی آنکھیں نھیں ھوتیں
بلکہ ان کے اندر روشن اعضاء ھوتے ھیں جن کو اللہ تعالی
نے ان کے جسم میں راستہ کو روشن کرنے کیلئے پیدا کیا
ھے اور اللہ رب العزت کے اس قول کا یھی مفھوم ھے
"ومن
لم يجعل الله له نورا
فما له من نور"
(جسے اللہ
تعالی ھی نور نہ دےاس کے پاس کوئی روشنی نھین ھوتی)
اور اللہ
تعالی کے اس قول میں اندرونی موجوں کی حرکت کی طرف بھی
اشارہ ھے۔
"فى
بحر لجى يغشاه موج من فوقه موج"
(جو نہایت
گھرے سمندر کی تہہ میں ھوں جسے اوپر تلے کی موجوں نے
ڈھانپ رکھا ھو)
مطلب یہ
ھےکہ موج گھرے سمندر کو ڈھانکے ھوۓ ھے اور سمندر کے
ماھرین نے اپنی اس تحقیق میں اس کو واضح کیا ھے کہ خوب
گھرا سمندر سے مختلف ھوتا ھے اس کے اندر گھرے سمندر
اور ظاھر سمندر کے ظاھری سمندر سے درمیان جدائی کی
جگھوں پر ایسی موجیں ھوتی ھیں جو اوپری موجوں سے مختلف
ھوتی ھیں جس کا علم صرف سو سال پہلے ھوا ھے یہ حیرت انگیز
سائنسی حقائق وہ ھیں جنکا قرآن کریم نے چودہ صدی پہلے
بیان کردیا ھے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالی
کے علاوہ کس نے اس کی خبر دی؟ ۔ |