|
سبب
اعجاز:
قرآن
کریم کے اسلوب کی نفی در اصل اس کی تاکید ھے، گویا کہ
اللہ رب العزت یہ فریاتا ھے کہ اس واضح دلیل کی
موجودگی میں قسم کی کوئی ضرورت نھیں ھے، اور قسم دلیل
کے اس مقام پر آئی ھے کہ قرآن اللہ تعالی کی جانب سے
وحی ھے۔
ارشاد
باری ھے "
فلا أقسم بالخنس،الجوار الكنس , والليل إذا عسعس,
والصبح إذا تنفس , إنه لقول رسول كريم"
(سورة
التكوير آيت
15- 19).
ترجمہ:
میں قسم کھاتا ھوں پیچھے ھٹنے والے چلنے پھرنے والے
چھپنے والے ستاروں کی اور رات کی جب جانے لگے اور صبح
کی جب چمکنے لگے یقینا یہ ایک بزرگ رسول کا کہا ھوا ھے
۔
قسم کی
اھمیت وعظمت سے مقسوم بہ کی عظمت کا بھی اندازہ ھوتا
ھے جو یہاں ان تمام صفات کے ساتھ مذکور ھے جو مکمل طور
پر کالے سوراخوں کی صفات سے ملتی جلتی ھیں، وہ در اصل
اپنے دائرہ میں چلنے والے ستارے ھیں جن کیلئے (جوار)
کا لفظ استعمال کیا گیا ھے ۔ اور "خنس" کا لفظ لغوی
اعتبار سے معنی اس کے مکمل مطابق ھے جس کے معنی چھپ
جانے پردہ میں آنے پوشیدہ ھو جانے اور ظاھر ھو جانے کے
بعد مٹ جانے اور ختم ھو جانے کے ھیں اور در حقیقت وہ
ایسے بڑے بڑے ستارے ھیں جو آخری عمر میں ھیں جن کا
مادہ بھی ختم ھونے کو ھے اور جو پوشیدہ ھیں ان کی
معمولی سی روشنی کی جھلک دکھائی دیتی ھے ۔ اس کا سبب
اسکی قوت جذب کی شدت ھے جو ھر قریبی چیز کو صاف کر
لیتی ھے اور نگل جاتی ھے جس سے اسکی قوت میں اضافہ ھو
جاتا ھے ۔ یہاں اسی کو لفظ "الکنس"کےذریعہ بیان کیا
گیا ھے اور ان اوصاف کا علم عصر جدید ھی میں ھوا ھے
لہذا قرآن کریم میں اتنے دقیق الفاظ کے ساتھ اسکی وصف
بیانی اس بات کی کھلی دلیل ھے کہ خالق کائنات اللہ رب
العزت کا کلام ھے ۔ |