|
سائنسی حقیقت:
علمی
دور انکشاف سے پھلے ایک اعتقاد چلا آرھا تھا کہ پورا
جسم درد محسوس کرتا ھے کسی کے سامنے یہ واضح نھیں تھا
کہ احساسات اور درد کو منتقل کرنے کے لئے جسم کے کھال
کے اندر مخصوص قسم کےاعصاب مادے ھیں۔ تا آنکہ جلد میں
عصبی مادوں کو انکشاف ھوا اور یہ معلوم ھوا کہ جلد میں
یہ مادے بڑی تعداد میں ھوتے ھیں۔ اور ڈاکٹر ھیڈ(Head)نے
جلدی احساسات کو دو مجموعوں میں تقسیم کیا ھے۔
ایک
دقیق احساس (epicritic)یہ
مخصوص ھے۔ ٹمپریچر میں معمولی فرق اور معمولی لمس کے
حاسے کی تمیز کے ساتھ ۔ دوسرا احساس اوّل ھے (pratopathic)جو
درد اور زائد ٹمپریچر کے ساتھ خاص ھے اور ان دونوں میں
سے ھر ایک کا احساس عصبی پوینٹس کے اختلاف کےساتھ کام
کرتاھے، جس طرح ما حول کے اندر خاص تبدیلیوں کا پتہ لگانے
کے خاص خلیے پاۓ جاتے ھیں۔ اسکی چار قسمیں ھیں۔
1- ایک
تو ایسے خلیے جو خارجی ما حول (exteroceptors)
سے متاثر ھوتے ھیں جو لمس کے حاسے کے ساتھ مخصوص ھیں۔
اور یہ
مایزنر(meissners
corpuscles)
اور (merkels
corpuscles
) پر
مشتمل ھوتا ھے:
2- بال
کےخلیۓ:
3-
ایراوز اور بلبیز (Erause
and Bulbes)
کا مادہ جو برودت کیلئے خاص ھے ۔
4-
روےینی سلینڈرس (Ruffini,s
cylinders)
جو حرارت کیلئے خاص ھے درد کا احساس کو منتقل کرنے
والے اعصاب آخری اجزاء، اور جلد، درد اور حرارت کو
منتقل کرنے والے اعصابی مادوں کا سب سے بڑا جزء ھے۔
جیسا کہ
پوسٹ مارٹم کے ماھریں نے ثابت کیاھے کہ ایسا شخص جس کی
پوری کھال جل کئی ھو وہ درد نھیں محسوس کرےگا کیونکہ
درد کو منتقل کرنے والے اعصاب کےآخری اجزاء ختم ھو چکے
ھیں بر خلاف اس کے جسکا کم حصہ جلد ھو، اسکا درد شدید
ھوگا، کیونکہ اعصاب کے آخری اجزاء حرکت میں ھیں؛ جیسا
کہ ماھریں نے کا یہ بھی ثابت کیا ھے باریک آنتیں اندر
سے کسی بھی احساس سےخالی ھیں۔ لیکن آنتوں کے خارجی حصے
میں دو باریک جھلیاں ھوتی ھیں، جو (receplors)
کہلاتی ھیں، جو احساس سے بھر پور ھوتی ھیں ۔ وہ آنتوں
کو ڈھانپے ھوئے ھوتی ھیں ۔ یہ باسینی کےنام سے مشھور
ھے، جس کا حجم 20400سینٹی
مٹر مکعب ھے۔ اگر اس کو پھیلا دیا ھے تو وہ جسم
کےخارجی جلد کے حجم کےبرابر ھو جائے گا، تکلیف کا
احساس جو آنتوں کے اوپر والی جھلی میں ھوتا ھے وہ جلد
میں پاۓ جانے والے احساس کے مشابہ ھوتا ھے۔ |