|
سبب اعجاز:
حدیث کا
صحیح مدلول وھی ھے جو آجکل طبی طور پر ھو رھا ھے، چنانچہ
جسم کے تمام اعضاء ایک دوسرے کو اپنی جانب متوجہ کرتے
ھیں۔ اور عربی زبان میں تداعی کے معنی ان سب کو محیط
ھیں۔ جب کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یاکہ
امت اسلامیہ کے اندر ایسی محبت ، رحمت وشفقت اور لطف
وھمدردی ھونی چاہۓ جس طرح کہ کہ ایک جسم ھوتا ھے۔ کہ
جب اس کا کوئی عضو کوئی تکلیف محسوس کرتا ھےتو پورا
جسم اس کی وجہ سے بے چین ھو جاتا ھے اور تکلیف محسوس
کرتا ھے اور جسم کی بے چینی کیلئے " تداعی" کلمہ سے
زیادہ مناسب اور بھتر کلمہ نھیں ھو سکتا، جب جسم کا کوئی
ایک عضو متاثر ھو اور پورا جسم پریشان ھو اور صفت
مختصر جملہ شرطیہ کی شکل میں آتی ھے، جس میں "اشتکی "
فعل شرط ھے، اور اس کا جواب " تداعی" ھے، چنانجہ ایک
ھی وقت میں سائنس ، لغوی اور بلاغی تین اعجاز جمع ھوتے
ھیں۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انسانی
جسم میں ھونے والے تغیرات کی حقیقت کو اس طرح بیان کیا
ھے، کہ کسی بھی آدمی کے لئے مشاھدہ کے بعد بھی ایسے
جامع کلمات میں اور جامع اسلوب میں جو تمام معانی کو
محیط ھواس کو بیان کرنا نا ممکن ھے، جس میں تشبیہ کا
اسلوب بھی ھے جواس مفھوم کو اچھی طرح ذہن نشین کر دیتا
ھے اور یہ عجیب بات ھے کہ اطباء عصبی نظام کیلئے ایک
ایسا کلمہ استعمال کرتے ھیں جو جسم کو کوئی خطرہ یا
مرض لاحق ھونے کی صورت میں متاثر ھوتا ھے انھوں نے اسکے
ذریعہ اس نظام کےعمل کی حقیقت بیان کی ھے۔ جس کا لفظی
ترجمہ یہ ھے کہ آپس میں محبت کرنے والا، اور شفقت کرنے
اور ھمدردی کرنے والا، اور من وعن وھی چیز ھے جس کو
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیث شریف میں بیان
فرمایا ھے۔
پاک ھے،
وہ ذات جس نے اپنے رسول کو ھدایت اور دین حق کے ساتھـ
مبعوث فرمایا، تا کہ وہ اس کو تمام ادیان پرغالب کر دے
، اور واضح آیات اور نشانیوں اور جوامع الکلم سےاس کی
تایید کی۔
|