|
سبب اعجاز:
قرآن
کریم نےچودہ سو سال قبل ستارے اور ستارے کے درمیاں چاند
اور سورج کے واسطے سے تفریق کی جانب اشارہ کردیا تھا،
جبکہ جدید فلکیاتی ماھرین آخری صدیوں میں نجوم وکواکب
پر ضوئی تحقیقات کرنے اور مائیکرسکوپ کے انکشاف کےبعد
پھونچے ھیں چنانچہ ستارہ ایک روشنی آسمانی جسم ھے۔ جس
کے اندر ذاتی طاقت ھوتی ھے، جبکہ کوکب ایک ایسا جسم
ھے، جسکی روشنی ثابت ھے، اور جو ستاروں اور سورج سے
روشنی حاصل کر کے منتقل کرتا ھے۔ اور یھی چیز تمام کواکب
پرمنطبق ھوتی ھے، چنانچہ سورج ایک زبردست نیوکلیائی
حیثیت رکھتا ھے جو فضا میں تیزی کے ساتھـ تیرتا رھتا
ھے، اور جسمیں کمیت اور کیفیت کےاعتبار سے بدلنے والی
مختلف شکلیں اور ٹمپریچر اور قوت اور روشنی ھوتی ھے،
یہ ایک ثابت روشنی والی روشن ٹکیا نھیں ھے بلکہ وہ
چمکدار چراغ ھے۔
"وجعلنا سراجاّ وھاجاّ" (اورھم نے روشن چراغ بنایا)
اور چاند ایک ایسا ستارہ ھے جوسورج سے روشنی حاصل کر
کے رات میں زمین کو منور کرتا ھے ، اسی چیز کو قرآن
کریم نے دو آیات میں بھت پہلے ثابت کردیا ھے۔ چنانچہ
کسی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان حقائق سے
آگاہ کیا یقینا وہ اللہ رب العزت کی ذات ھے۔
|