|
سبب
اعجاز:
ارشادباری تعالی:"فما حصدتم
فذروه فى سنبله"(جو
فصل کاٹو اسکو اس کی بالوں میں چھوڑ دو)
اس سے یہ
معلوم ھوتا ھے کہ دانوں کو بالیوں میں اسٹاک رکھنا
زمانے کی دست برد سے محفوظ رکھنے کیلئے سب سے بہتر ین
اسلوب اور عمدہ ٹکنیک ھے، اس آیت کریمہ میں دو سائنسی
نکتے ملتے ھیں ۔
1-
پندرہ سال کےاندر کاشت کے دانوں کی صلاحیت کی تحدید یہ
ان سات سالوں کا محصول ھےجن میں لوگ پابندی کے ساتھ کھیتی
کریں گے اور کاٹیں گے ،اور یہ سر سبزی اور ھر بالی کے
سال ھیں۔ اس کے بعد سات سخت اور خشکی اور قحط کے سال
آئے گا ۔ اس کے بعد ایک سال یعنی پندرھواں سال آئے گا
جس میں لوگوں کو مدد ملے گی ، اور وہ پھلوں سے رس نکالیں
گے ، اس سائنسی تحقیق میں اس بات کا بھی علم ھو ا کہ
پندرہ سال کی مدت دانوں کے اندر نمو اور کاشت کے
اعتبار سے سب سے آخری مدت ھے۔
2-
اسٹاک کاطریقہ: ارشاد باری تعالی "فذروه
فى سنبله"(جو
فصل کاٹو اسکو اسکی بالوں میں چھوڑ دو)۔
اور یہ
تجرباتی تحقیق کےذریعہ معلوم شدہ ایک سائنسی طریقہ ھے
جس سے یہ بھی معلوم ھوتا ھے کہ دانوں کے اسٹاک کا سب
سے بہتر اور عمدہ طریقہ وھی ھے جس کی طرف اللہ کے نبی
یوسف علیہ الصلاة
والسلام نے اللہ کی وحی سے اشارہ کیا ھے اور یہ بھی
معلوم ھوا کہ یہ طریقہ پرانے زمانے میں خاص طور سے
قدیم مصریوں میں معروف نہ تھا بلکہ وہ تو بالیوں سے الگ
کر کے دانوں کا اسٹاک کیا کرتے تھے اس طرح سے یہ دانوں
کا بالیوں میں اسٹاک کرنے میں ایک سائنسی سبب ھے تاکہ
ان کے اندر کوئی تبدیلی یا خرابی نہ آۓ اور قرآن کریم
کا اس حقیقت کو بیان کرنا قرآن کریم کی عظمت اور اس کے
دقیق علم میں چار چاند لگاتا ھے اور اللہ کی وحی ھونے
کو ثابت کرتا ھے۔ |