|
سائنسی
حقیقت:
پہاڑوں
کے متعلق بہلے صرف اتنا علم تھا کہ سطح زمین سے بلند
بہت ساری اونچی اونچی چٹانیں ھیں ۔ اور اس وقت تک یھی
مشھور تھا جبکہ بیئر بوگر نے 1835ء میں اسکی طرف اشارہ
کیا کہ انڈینز پہاڑوں کے سلسلے کی قوت جذب اتنے بڑے
چٹانوں کے مجموعے سے متوقع قوت کے مقابلہ میں بہت کم
ھے ۔ اور اس نے یہ تجویز پیش کی کہ بڑا بہاڑی سلسلہ انھیں
پہاڑوں سے بنایا جاۓ تا کہ جاذبیت کی مقدار میں شذوذ
کی تشریح مکمل ھو اور انیسویں صدی کے وسط میں جورج
ایوریسٹ نے ھمالیہ پہاڑ میں دو مختلف جگھوں پر جاذبیت
کےناپنے کے نتائج کے سلسلے میں شذوذ کی طرف اشارہ کیا
، اور ایوریسٹ بھی اس حقیقت کو واضح نہ کر سکا تو اس
نے اسکا نام ھندوستانی معمہ رکھ دیا اور 1865ء
میں جورج ابری نے یہ اعلان کیا کہ کرّہء
ارض پرتمام پہاڑی سلسلے زمین کے نچلے چھلکےکے مادوں سے
سمندر کے اوپرتیر رھے ھیں اور یہ موجودہ مادے پہاڑی
مادوں کے مقابلے میں زیادہ کثیف ھیں ۔ اسی وجہ سے
پہاڑوں کو اتنی ھیئت اور سیدھا پن برقرار رکھنے کیلئے
ان زیادہ کثافت والے مادوں میں مل جانا ضروری ھے۔
اسی طرح بتدریج جیولوجی علم نے یہ ثابت کردیا ھے کہ
زمینی پرت ملے ھوۓ قریبی ٹکڑوں سے عبارت ھے جن کو ھم
الواح (تختیاں) یا ٹھرے ھوۓ پٹرے کہہ سکتے ھیں اور بڑے
پہاڑ معمولی چٹانوں کے مقابلے میں جو ان سے زیادہ کثیف
ھوتی ھیں جو کسی سمندر پرختم ھوتے ھیں ۔ اور پہاڑوں کی
بھی جڑیں ھوتی ھیں جو ختم ھونے میں اور ان تختیوں کے
جمنے میں معاون ثابت ھوتی ھیں تاکہ پہاڑ تل نہ سکے۔
وان انگلن(Van
Anglin)
نے اپنی تصنیف (Geomorphology)
شائع شدہ 1948ء کے ایڈیشن صفحہ 27 پر رقم طراز ھے " کہ
اب یہ بات سمجھ میں آتی ھے کہ رؤے زمین کے اوپر ھر
پہاڑ میں ایک جڑ کا پایا جانا ضروری ھے جہاں تک زمینی
پرت کے جمانے میں پہاڑوں کا کردار ھے تو زمیں کے ھائیڈرو
اسٹیٹی توازن کے اصول سے اس کی تائید ھوتی ھے جیسا کہ
امریکی جیولوجسٹ ڈیٹون(Dutton)
نے 1889ء میں اس کا ذکر کیا ھے جو یہ ثابت کرتا ھےکہ
پہاڑی بلندیاں اپنی بلندی کے اعتبار سے اسی مقدار میں
زمین میں گھری ھوتی ھیں اور زمینی تختیوں کی حقیقت کی
تائید1969ء
میں ھوئی جس میں کہ واضح ھوا کہ پہاڑ زمینی پرت کی ھر
تختی کا توازن بر قرار کھتے ھیں۔ |