ارشاد
باری تعالی: "والأرض
ذات الصدع"(سورة
الطارق آية: 12)۔
ترجمہ:
اور قسم ھے زمین کی جو بیج نکلتے وقت پھٹ جاتی ھے۔
سائنسی
حقیقت:
جدید
دور میں جیولوجسٹ ماھریں نے اس چیز کا انکشاف کیا ھے
کہ گھر ے شگافوں کے اعتبار سے زمین 12ملے ھوۓ بڑے
بنیادی دکڑوں میں منقسم ھیں ۔ جن میں سے ھرایک کو پلیٹ
کہا جاتا ھے۔ مزید چھوٹی چھوٹی بہت ساری پلیٹیں ھیں۔
جنکو پلیٹ لپٹس کہا جاتا ھے ، اور یہ پلیٹیں تقریبا
گھری ھوئی ھوتی ھیں۔ اور یہ گھرا ھوا ھوتا سمندر کے
گرھوں میں دور تک جاتا ھےاور ھر دو ملی ھوتی پلیٹوں تک
ایک جدید مادے کا اضافہ کرتا ھے اور پلیٹ کے ایک طرف
سے بڑھنے کی وجہ سے دوسری صرف جھکنے کے ساتھ ملی ھوتی
پلیٹ کےکنار ے کے نیچے گھٹتا چلا جاتا ھے اس طرح سے بڑ
ے سمندروں کے بیچ میں شگاف واضح ھو جاتے ھیں پھر وہ شگاف
بڑھتے چلے جاتے ھیں۔ تا کہ پوری زمینی پرت کو گھپر لیں
انکی گھرائی پرت کی گھرائی کے ساتھ دبیز جگہ میں ڈیڑھ
سو کلو میٹر پھونچ جاتی ھے: اس سے یہ معلوم ھو کہ اب
تک جتنے بر اعظم معلوم ھوۓ ھیں اور ان کو جدا کرنے
والے تمام پہار ان پلیٹس کی حرکت جن کو دور یا نزدیک
اٹھاتے ھوۓ ھیں ۔ دھیرے دھیرے حرکت محسوس کرتےرھتے ھیں
تا کہ ھر سال چند سینٹی میٹر کی مسافت طے کرسکیں لیکن
یہ مسلسل حرکت ھے تو مثلاّ بحر احمر ھر سال تین
سینٹیمیٹر اور خلیج کیلیفورنیا 6
سینٹی میٹر وسیع ھو جاتے ھیں۔ اور ھندوستانی پلیٹ
کےپروسی پلیٹ کے ساتھ ٹکرتی ھے جس سے بیچ کی پلیٹ
ھمالیہ اس پہاڑی سلسلےکی تکویں کیلئے ختم ھو جاتی ھے
اور ھمایہ دنیا کی سب سے اونچی چوٹی کا مالک ھے اور اس
وقت یہ سمجھا جاتا ھے کہ نئے بر اعظم دو سو ملین سال
پہلے سب ایک ساتھ تھے۔ اور ایک بڑے بر اعظم کی حیثیت
رکھتے تھے ۔ اور اسی طرح سے ایک بڑاسمندر سے کو گھپر ے
ھو ۓ تھا۔ اسکی تقسیم کی وجہ سے اصلی شگاف کو بحر
اٹلانٹک کا درمیانی شگاف کہا گیا ۔ اور آج تک ایک
طوفانی خطہ سمجھا جاتا ھے ۔
سبب
اعجاز :
بڑے
سمندروں کےبیچ میں شگاف پڑنے کا انکشاف دوسری عالمی
جنگ کے بعد ھوا گذشتہ صدی کے چھ کے ٹھے کے آخر میں اور
سات کے دھے کے ابتدا میں بننے والے ٹکٹونک پلیٹس کے
نظریء کے ذریعہ اسکی تشریح ھوئی اور سائنسی اعتبار سے
وہ گھرے شگاف زمین کے اندر زمینی ھرتکا واضح نشان ھیں۔
اور قرآن کریم میں زمین کی سطح کے نیچے پوشیدہ اس
حقیقت پر واضح دلیل دی ھے ، یہ اس بات کی دلیل ھے کہ
قرآن اللہ علیم وحکیم کا کلام ھے۔