|
سبب
اعجاز:
ارشاد
نبوی ھے، کہ کلونجی ھر مرض کی دوا ھے، اور کلمۂ شفاء
تمام احادیث میں نکرہ استعمال ھوا ھے، سیاق وسباق کے
اعتبار سے مثبت اور نکرہ عامہ ھے۔
نتیجة اس
لئے یہ کہنا زیادہ بھترھےکہ کلونجی میں ھر مرض سے
شفایابی کا کچھـ نہ کچھـ تناسب موجود ھے اور یہ بھی
ثابت ھو چکا ھے، کہ دفاعی نظام ھی ھرمرض کو ختم کرنے
کا واحد نظام اور ھتھیار ھے، چونکہ دفاعی قوت خواہ وہ
فطری ھو یا حاصل شدہ ھو اس کے اندر اسکی طاقت وصلاحیت
ھوتی ھے کہ وہ ایسےجراثیم کو جسم کے اندر پیدا کرے جو
امراض کے جراثیم کو بآسانی ختم کردیں۔اور ان کے لئے
مہلک ھتیار ثابت ھوں ۔
اور
تطبیقی تحقیقات سے یہ بات ثابت ھو چکی ھے کہ کلونجی
دفاعی قوت کو ھمہ وقت چست رکھتی ھے۔اور مددگار خلیے ،
کنٹرول کرنے والے خلیے اور فطری مہلک خلیے یہ سب
بالخصوص لمفاوی خلیے ھیں ان سب کا تناسب قاضی صاحب کی
تحقیقات میں 75٪ فیصد ھے۔ اور سائنسی میگزین میں شائع
شدہ تحقیقات سے بھی اسکی تائید ھوتی ھے۔ جس میں مددگار
لمفاوی خلیے اور حلق کے خلیوں کے حالات میں بہتری آئی۔
اور انتروائرون اور انترلوکین 3.1 کے مجموعہ میں اضافہ
ھوا، اور دفاعی خلیوں میں بھی بہتری آتی، دفاعی نظام
کی یہ بہتری بعض وائرس اور کینسر کے خلیوں پر کلونجی
کے تیل سے ختم کردینے والی تاثیرپر اثر انداز ھوئی۔
اسی مرح بلہارسیا کے کیٹرے لگ جانے کی بیماری میں بھی
مؤثر ھے، اور کافی کمی آئی ھے۔ اس لئے یہ کہنا کہ کلونجی
میں ھر مرض کی دوا ھے کیونکہ یہ دفاعی نظام کو درست
رکھتی ھے،اور تقویت دیتی ھے۔ اور اسی نظام میں ھر مرض
کا علاج اور شفاء ھے۔ چونکہ یہ نظام ھر مرض کے اسباب
کا ازالہ کرتا ھے۔ اور تمام امراض کا کلیاً
جزئیاً
علاج کرتا ھے۔
اس طرح
سے ان احادیث کریمہ سے ایک سائنسی حقیقت کا انکشاف ھوا
ھے، جو آج سے چودہ سو سال قبل جس کا کوئی انسان تصور
نھیں کر سکتا تھا ، چہ جائی کہ اس کے متعلق گفتگو کرے
سواۓ اس نبی کے جو رب ذو الجلال کی جانب سے مبعوث ھے۔
ارشاد ربانی ھے ،"وماینطق عن الھوی ان ھو الا وحی
یوحی" (سورة نجم آیت 3-4)
اور وہ (یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم) اپنی جانب سے کوئی
بات نھیں کہتے بلکہ وھی کہتے ھیں جو آپ صلی اللہ علیہ
وسلم کی طرف وحی کی جاتی ھے۔ |