قرآن اور سنت ميں علمى اعجاز كى بين الاقوامى تنظيم    
ہمارا پیغام : قرآن اور سنت ميں علمى اعجاز كى تحقيق اور اسے تمام لوگوں کو آگاہ کرنا

زبان

پچھلے صفحہ

پھلا صفحہ تحقيقوں کا تلخيص تنظيم كے بارے میں ہمارے سے فون کریں    

 

  

السلام عليکم و رحمة الله وبركاته

 

 

سو جس شخص کو اللہ تعالی راستہ پر ڈالنا چاھے اس کے سینہ کو اسلام کیلئے کشادہ کر دیتا ھے اور جس کو بے راہ رکھنا چاھتا ھے اس کے سینہ کو بہت تنگ کر دیتا ھے جیسے کوئی آسمان میں چڑھتا ھے اسی طرح اللہ تعالی ایمان نہ لانے والوں پرناپاکی مسلط کر دیتا ھے ۔ (سورہ انعام آیت:125)

تم کو کیا ھوا کہ تم اللہ کی عظمت کے معتقد نھیں ھو اور پیدا کیا تم کو طرح طرح سے ۔

اے یوسف بڑے سچے؛ آپ ھم لوگوں کو اس خواب کا جواب یعنی تعبیر دیجئے کہ سات گائیں موٹی ھیں ان کو سات دبلی گائیں کھا گئیں اور سات بالیں سبز اور سات خشک بھی ھیں، تا کہ میں ان لوگوں کےپاس لوٹ کرجاؤں اور بیان کروں۔ تاکہ ان کو بھی معلوم ھو جاۓ ۔ آپ نے فرمایا کہ تم سات سال متواتر خوب غلہ بونا، پھر جو فصل کاٹو تو اس کو بالوں میں رھنے دینا تا کہ گھن نہ لگ جاۓ، ھاں مگر تھوڑا سا جو تمہارے کھانے میں آۓ ۔ پھر اس سات برس کے بعد سات برس اور ایسے سخت اور قحط کے آئیں گے جو کہ اس تمام تر ذخیرہ کو کھا جائیں گے، جس کو تم نے ان برسوں کیلئے جمع کر کے رکھا ھوگا ھاں مگر تھوڑا سا جو بیج کی واسطے رکھ چھوڑو گے ۔ پھر اس سات برس کےبعد ایک برس ایسا آۓگا، جس میں لوگوں کیلئے خوب بارش ھوگی اور بیج اسکے نچوڑیں گے ۔

جن لوگوں نے ھماری آیتوں سے کفر کیا۔ انھیں ھم یقیناّ آگ میں ڈال دیں گے جب ان کی کھالیں پک جائیں گی ھم انکے سوا اور کھالیں بدل دیں گے تاکہ وہ عذاب چکھتے رھیں یقیناّ اللہ تعالی غالب حکمت والا ھے۔

اور کیا ھم نے بہاڑوں کو (زمین کی) میخین نھیں بنایا؟  (سورة النبا آیت 7)

آپ کھدیجئے کہ جر کچھ احکام بذریعہ وحی میرے پاس آۓ ان میں تو میں کوئی حرام نھین پاتا کسی کھانے والے کیلئے جو اس کو کھاۓ ، مگر یہ کہ وہ مردار ھو یا کہ بہتا ھوا خون ھو یا خنزیر کا گوشت ھوا کیونکہ وہ بالکل ناپاک ھے یا جو شرک کا ذریعہ ھو کہ غیر اللہ کیلئے نامزد کر دیا گیا ھو۔ پھر جو شخص مجبور ھو جاۓ بشرطیکہ نہ تو طالب لذت ھو اور نہ تجاوز کرنے والا ھو تو واقعی آپ کا رب غفور رحیم ھے (سورہ انعام 146)

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ھے: "جب تمھیں کسی سر زمین میں طاعون کا علم ھو تو اس میں نہ داخل ھو۔ اور جب کسی ایسی زمین میں طاعون پھیل جاۓ جہاں تم پہلے سے موجود ھو تو اس سے مت نکلو" بخاری ومسلم۔ اور ارشاد نبوی ھے:" طاعون سے بھاگنے والا ایسا ھی ھے جیسے کوئی شخص لشکر کے ڈر سے بھاگے، اور جو اس پر صبر کرے اس کے لئےایک شہید کے برابر اجر ھے" مسند احمد۔

قسم ھے آسمان کی جس سے بارش ھوتی ھے

اور قسم ھے زمین کی جو بیج نکلتے وقت پھٹ جاتی ھے۔

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ھے "جب بھی کسی قوم کے اندر فحش کاموں کا ظھور ھوگا اور وہ اس کوکھلم کرنے لگیں، تو نتیجہّ ان میں طاعون اور ایسے امراض عام ھوں گے جو ان سے پہلے لوگوں میں نہ تھے" اور ارشاد ھے"زنا جس قوم میں عام ھوگا اس میں اموات کثرت سے ھوں گی "۔ مؤطآ مالک۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : کہ"کوئی مرض ایسا نھیں ھے جس کی دوا کلونجی میں نہ ھو سواۓ موت کے"

دوسمندر آپس میں ملتے ھیں ان دونوں کے درمیان ایک حاجز ھے جس کے سبب دونوں ایک دوسرے سے نھیں ملتے ۔ تو تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کوجھٹلاؤگے ان دونوں سے لؤلؤ اور مرجان نکلتے ھیں۔

اور وہ ایسا ھے جس نے دریاؤں کوملایا جن میں ایک کا پانی شیریں پیاس بجھانے والا، اور ایک کا سور تلخ ھے اور انکے درمیان میں (اپنی قدرت سے) ایک حجاب اور ایک مانع قوی رکھ دیا ۔

یا مثل ان اندھیروں کے ھے جو نہایت گھرے سمندر کی تہ میں ھوں جسے اوپر تلے کی موجوں نے ڈھانپ رکھا ھو پھر اوپر سے بادل چھاۓ ھوۓ ھوں الغرض اندھیریاں ھیں جو اوپر تلے پے در پے ھیں جب اپنا ھاتھ نکالے تو اسے بھی قریب ھے کہ نہ دیکھ سکے اور (بات یہ ھے کہ) جسے اللہ تعالی ھی نور نہ دے اس کے پاس کوئی روشنی نھیں ھوتی (سورہ نور آیت 40)

  ارشاد ربانی ھے " تبارک الذی جعل فی السماء بروجاّ وجعل فیھا سراجا وقمرا منیرا" 61 الفرقان۔  (پاک ھے وہ ذات جس نے آسمان میں برج بناۓ اور اس میں چراغ اور روشن چاند بنایا)۔

میں قسم کھاتا ھوں پیچھے ھٹنے والے،چلنے پھرنے والے چھپنے والے ستاروں کی۔

روم زمین کے ادنی حصہ میں مغلوب ھونگےاور مغلوبیت کے بعدچند سال کےاندر پھرغالب ھونگے۔پہلے اور بعدکےتمام حکم اللہ ھی کے ہاتھـ میں ھے اور اس روز مؤمنین خوشی منائیں گے۔

اور امام احمد رحمةاللہ علیہ نے اپنی مسند میں حضرت عبد اللہ ابن بریدہ سے نقل کیا ھے کہتے ھے کہ مین نے ابو بریدہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ قول سنا آپص نے فرمایا : انسان کے اندر 360جوڑ ھیں انسان کے اوپر واجب ھے کہ ھر جوڑ کی طرف سے صدقہ کرے صحابہ رضی اللہ عنھم نے پوچھا : اے ورسول اللہ اتنا کون کھر سکتا ھے؟ آپص نے فرمایا:مسجد کے اندر تھوک کے اوپر مٹی ڈالنا یا راستے سے کسی چیز کاٹنا دینا صدقہ ھے اگر یہ کر سکو تو چشت کی دو رکعت کافی ھے :مسند احمد۔

حضرت ابوھریرة  ـ رضی اللہ عنہ ـ سے مروی ھےکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا "انسان کے پورے بدن کو مٹی کھا جاۓ گی سواۓ پریمیٹیو اسٹریک کے کہ اسی سے وہ پیدا ھوا ھے اور اسی میں وہ مل جاۓ گا۔"

ایسا ھرگز نھیں کرنا چاھئیے اور اگر یہ شخص بازنہ آۓ گا تو ھم اس کی پیشانی کے بال پکڑ کر گھسپٹیں گے (15)ایسی پیشانی جو جھوٹی خطا کار ھے (16)

نبی اکرم صلى الله عليه وسلم نے ارشاد فرمایا " مؤمنين كى مثال آپس ميں محبت، رحم وكرم اور لطف وھمدردى ميں ایک جسم كى طرح ھے، كہ جب اس جسم كے كسى عضو ميں كوئى تكليف ھوتی ھے تو پورا جسم اس کی وجہ سے بخار اور بےخوابی كى بے چینی محسوس كرتا ھے" بخاری ومسلم.

 

 

 

 

 

قرآن اور سنت ميں علمى اعجاز كى بين الاقوامى تنظيم (1428- 2007)